فیض آباد ، 14؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )ایودھیاتنازعہ کو حل کرنے کے لیے فیض آباد کے کمشنر کے سامنے ایک نئی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں بابری مسجدکی گہ پرمندراورمسجد دونوں بنانے کی بات کہی گئی ہے۔دعویٰ کیاگیاہے کہ درخواست پرہندو اور مسلمان دونوں کمیونٹیوں سے تقریباََ10ہزار لوگوں نے دستخط کئے ہیں اور ہائی کورٹ کے سابق جج پلوک بسو اس پہل کی قیادت کر رہے ہیں۔کمشنراورمتنازع مقام کے پرمنتظم سوریہ پرکاش مشرا نے کہاکہ مجھے ایودھیا تنازعہ کے سلسلے میں ایک میمورنڈم اوردستخط شدہ کاپیاں ملی ہیں، ابھی مجھے اس پر فیصلہ کرنا ہے کہ کیا کیا جانا ہے۔بسو نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے گا۔درخواست کل سونپی گئی جس پر 10502لوگوں کے دستخط ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے سپریم کورٹ میں مجازشخص(فیض آباد کمشنر) کے ذریعے سمجھوتے کایہ عمل شروع کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ عدالت عظمی امن اور ہم آہنگی کے عوامی جذبات کا احترام کرے گی۔بسو نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ متنازعہ مقام پر رام مندر اور مسجد دونوں تعمیر ہوں گے۔قابل ذکرہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے 30؍ستمبر 2010کو متنازع مقام کے دو حصے نرموہی اکھاڑا اور رام للا کے ’دوست‘کو دیئے جانے اور ایک حصہ مسلمانوں کو دیئے جانے کا فیصلہ سنایا تھا جو اتر پردیش کے سنی سینٹرل بورڈ کو گیا۔بسو نے دعوی کیا کہ تنازعہ کے حل کی ان کی مقامی کوشش 18؍مارچ 2010کو شروع ہوئی تھی ۔